لاہور میں گھریلو ملازمہ سے اجتماعی زیادتی، اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

 لاہور کے پوش علاقے ماڈل ٹاؤن میں اجتماعی زیادتی کا شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاط حمل کے دوران جاں بحق ہو گئی۔نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق گھریلو ملازمہ نے جاں بحق ہونے سے پہلے ویڈیو بیان دیا، ملازمہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ملزمان کے خلاف اجتماعی زیادتی کی ایف آئی آر میں قتل کی دفعات کا اضافہ کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق ویڈیو بیان میں بتایا گیا کہ نومبر2025 میں حاملہ ہونے کا پتہ چلا، والدین کو بھی بتا دیا، مالکن کا بیٹا اور ڈرائیور 5 ماہ سے مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ گھریلو ملازمہ کو اسقاط حمل کے لئے رائیونڈ کے پرائیویٹ کلینک لے جایا گیا تھا، حالت بگڑنے پر لڑکی کو سروسز ہسپتال لایا گیا، ہسپتال انتظامیہ نے پولیس بلا لی۔پولیس نے ملازمہ کے تحریری اور ویڈیو بیان پر اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا۔پولیس کے مطابق مالکان اور باپ کے دباؤ پر لڑکی نے ہلاکت سے پہلے بیان تبدیل کیا، صرف ڈرائیور کو ملزم ٹھہرایا، سروسز ہسپتال میں دو دن زیر علاج رہنے کے بعد لڑکی دم توڑ گئی۔پولیس حکام کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد کیس کی مزید تفتیش کی جائے گی۔

0/Post a Comment/Comments