اسلام آبادوفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری نے کہاہے کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کے لئے بجلی سبسڈی ختم نہیں کر رہی۔ وزیرتوانائی اویس لغاری نے کہاہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین کی تعدادچارسال میں95 لاکھ سے بڑھ کر2 کروڑ 15 لاکھ ہوچکی ہے ،اس وقت2 کروڑ95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔اویس لغاری نے کہاکہ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے ،کیو آر کوڈسسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی،سبسڈی صرف اہل صارفین تک پہنچانے کے لیے رجسٹریشن نظام متعارف کرایا گیا ہے ،بیس لاکھ سے زائد سنگل فیز والے صارفین رجسٹریشن مکمل کرا چکے ہیں ،سبسڈی ختم کرنے کی خبریں حقائق کے منافی ہیں ۔
وزیر توانائی نے کہاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی دعوے درست ہیں،آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی سے 3.5 کھرب روپے کی بچت ہوئی ،ڈسکوز کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے ،سال 2024-25 میں سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، غیر ضروری مشینری کی فروخت سے 47 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے،اصلاحات کے باعث بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اویس لغاری نے کہاکہ توانائی شعبے کی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں،پاور سیکٹر اصلاحات سے صارفین کو براہِ راست ریلیف ملا، بجٹ میں سبسڈی کا حجم کم کرنے سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا ،صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ کم کیا گیا،مارچ 2024 سے مئی 2026 تک تمام کیٹیگریز کے صارفین کے لیے بجلی سستی ہوئی،پروٹیکٹڈ کٹیگری والے صارفین کے بجلی نرخوں میں 31 فیصد کمی آئی ہے جبکہگھریلو صارفین کے بجلی نرخوں میں 16 فیصد کمی آئی ہے۔
وزیر توانائی نے کہاکہ صنعتی صارفین کے نرخوں میں 33 فیصداور کمرشل کے لیے بجلی 8 فیصد سستی ہوئی،زرعی صارفین کو بجلی نرخوں میں 14 فیصد ریلیف ملاہے ،آزاد کشمیر کے صارفین کے بجلی نرخوں میں 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے،قومی سطح پر بجلی کے اوسط نرخوں میں 20 فیصد کمی آئی ہے۔
اویس لغاری نے کہاہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیےمقامی ذرائع پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے،سال 2035 تک کلین انرجی کا شیئِر 90 ہوجائے گا جو اس وقت 55 فیصد ہے،اس عرصے میں مقامی وسائل سے پیداوارموجودہ 74 فیصد سے 96 فیصد ہوجائے گی ،پاکستان کا قابل تجدید توانائی کا شیئر 57 فیصد تک ہے جبکہ بھارت کا قابل تجدید توانائی کا شیئر 48 فیصد تک ہے،سولر توانائی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی بلکہ نظام کو مزید شفاف بنایا جا رہا ہے ،قومی توانائی منصوبے میں 8 گیگاواٹ تقسیم شدہ شمسی توانائی شامل ہے۔
وزیرتوانائی نے کہاکہ نیٹ بلنگ پالیسی سے 90 فیصد گھریلو صارفین متاثر نہیں ہوں گے،سنگل فیز گھریلو صارفین کے لیے سولر نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں، گلگت بلتستان اور گوادر میں سولرائزیشن منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے،پچیس کلوواٹ اور اس سے کم کے سولر منصوبوں کے لیے لائسنسنگ شرط ختم کر دی گئی،نیپرا نے پاور ڈویژن کی درخواست پر چھوٹے سولر منصوبوں کے لیے آسانیاں منظورکی ہیں ،نیٹ بلنگ نظام کو ڈیجیٹل بنا کر شفافیت میں اضافہ کیا گیا،نیٹ میٹرنگ مکمل ختم نہیں کی گئی، صرف بلنگ طریقہ کار میں اصلاحات کی گئی ہیں،سولر صارفین کے مفادات کے تحفظ اور تمام صارفین کے درمیان توازن قائم کیا جا رہا ہے۔
Post a Comment